اعوذبااللہ کی تفسیراور اس کے احکام

قران کریم میں ہے خُذِالعَفوَ۔۔۔اعراف199 الخ یعنی در گزر کرنے کی عادت اپناؤ۔ بھلاںئ کا حکم کیا کرواور جاہلوں سے منہ موڑ لیا کرو۔ اگر شیطان کی طرف سےکوئی وسوسہ آجاۓتو اللّٰہ تعالی سننے والےجاننے والے سے پناہ طلب کر لیا کرو۔ ایک مقام پر فرمایا  اِدفَع بِاالَّتِی۔۔۔۔۔المومنون96 برائی کو بھلائی سے ختم کرو۔ ہم ان کے بیانات کو خوب جانتے ہیں ۔ کہا کرو کہ اے پروردگار شیطان کے وسوسوں اور ان کی حاضری سے ہم تیری پناہ چاہتے ہیں۔ اور ارشاد ہوتا ہے اِدفَع بِالَّتی ھِیَ اَحسَنُ فَاِذَالَّذِی۔۔۔۔۔الخ حم سجدہ 34 یعنی بھلائی کے ساتھ دفع کرو۔تم میں اور جس دوسرے شخص میں عداوت ہوگی وہ ایسا ہو جاۓ گاجیسے دلی دوست۔یہ کام صبر کرنے والوں اور نصیب داروں کا ہے ۔

جب شیطانی وسوسہ آجاۓتو اللّٰہ تعالی سننے والے جاننے والے سے پناہ چاہو ۔

ان آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ انسانوں میں سے جو تمہاری دشمنی کرےاس کی دشمنی کا علاج تو یہ ہے کہ اس کے ساتھ سلوک و احسان کرو تاکہ اس کی انصاف پسند طبیعت خود اسے شرمندہ کرے اور وہ تمہاری دشمنی سے نہ صرف باز رہے بلکہ تمہارا بہترین دوست بن جاۓاور شیاطین کی دشمنی سے بچنے کے لںۓ اس نے اپنی پناہ پکڑنی سکھائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

2 replies on “اعوذبااللہ کی تفسیراور اس کے احکام”

  • November 19, 2021 at 11:04 am

    Masha Allah good article

  • Faizan
    November 19, 2021 at 3:02 pm

    Masha Allah thank you for the goid information